آخری دیدارکیلئے میسور میں اہم قائدین کا تانتا
بنگلورو۔یکم اگست(عبد الحلیم منصور/ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا کے فرزند راکیش سدرامیا کی آج میسور کے ٹیکاٹور دیہات میں واقع فارم ہاؤز میں آخری رسومات ادا کردی گئیں۔ فارم ہاؤز میں آخری رسومات کے موقع پر وزیر اعلیٰ سدرامیا ، ان کی بیوی پاروتما، چھوٹے لڑکے تیندرا ، راکیش کی بیوہ سنیتا اور خاندان کے اہم افراد کے علاوہ ریاستی کابینہ کے وزراء اور کاگی نیلے مٹھ کے سوامی کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ اس سے قبل آج صبح برسلز سے راکیش کا جسد خاکی بنگلور انٹرنیشنل ایرپورٹ لایا گیا اور وہاں سے ایک خصوصی طیارے سے میسور لے جایا گیا۔ میسور کے دسہرہ ایگزی بیشن گراؤنڈ میں راکیش کے عوامی دیدار کا انتظام کیاگیا تھا، اس موقع پر کئی اہم شخصیتوں نے حاضر رہ کر راکیش کا آخری دیدار کیا اور تعزیت ادا کی۔ آخری رسومات میں شریک اہم لیڈران میں ریاستی گورنر واجو بھائی والا ، اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ ، کیرلا کے سابق وزیراعلیٰ اومن چانڈی، ریاستی وزراء ڈاکٹر جی پرمیشور، کاگوڈ تمپا، جناب روشن بیگ، ڈی کے شیوکمار ،ایم بی پاٹل، ایچ سی مہادیوپا ، ایچ ایس مہادیو پرساد ، ٹی بی جئے چندرا، آر وی دیش پانڈے، بسوراج رایا ریڈی، تنویر سیٹھ، سابق وزراء کے جے جارج ، سرینواس پرساد، آر اشوک، کٹا سبرامنیا نائیڈو، کے پی سی سی کارگذار صدر دنیش گنڈو راؤ ، اراکین اسمبلی کمار بنگارپا، ایس ٹی سوم شیکھر، واسو ، جی ٹی دیوے گوڈا، میسور کی ڈپٹی کمشنر شیکھا ، میئر بائرپا ، میسور ضلع پنچایت کی صدر نعیمہ سلطانہ سمیت سینکڑوں کی تعداد میں سیاستدانوں ، سرکاری افسران اور دیگر نے آخری دیدار کیا۔ دس ہزار سے زائد راکیش کے شیدائیوں اور بڑی تعداد میں کانگریس کارکنوں نے الگ قطار بناکر راکیش کا دیدار کیا ۔ حفاظتی انتظامات پر پانچ پولیس سپرنٹنڈنٹوں ، 14؍ اے ایس پی ، 25سرکل انسپکٹروں ، 500پولیس کانسٹبل، 25 ویمنس کانسٹبل باہر حفاظتی انتظامات کیلئے کے ایس آر پی اور سی اے آر کی دس دس ٹکڑیاں ، چار سریع الحرکت دستے اور 200ہوم گارڈس متعین کئے گئے تھے۔دسہرہ ایگزی بیشن میدان سے جلوس کی شکل میں راکیش کا جسد خاکی ٹیکاٹور لے جایا گیا۔ سڑک کی دونوں جانب بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ فارم ہاؤز میں مذہبی عقائد کے مطابق راکیش کی آخری رسومات انجام دی گئیں۔ اس دوران اپنے بڑے فرزند اور سیاسی وارث کی موت کا صدمہ وزیراعلیٰ سدرامیا کو کافی گہرا پہنچا ہے۔ آخری رسومات کے مرحلے میں سدرامیا اپنے فرزند کی جدائی برداشت نہیں کرپائے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔دسہرہ میدان میں بھی جسد خاکی کے پاس کھڑے رہ کر سدرامیا مسلسل آنسو بہاتے رہے۔ وزراء اور اہم شخصیتوں نے سدرامیا کو دلاسہ دیا، لیکن ان پر جو سکتہ طاری تھا وہ برقرار رہا۔ ٹیکاٹور میں آخری رسومات کیلئے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ سدرامیا کے فارم ہاؤز میں صرف پانچ سو لوگوں کی گنجائش تھی، جس کی وجہ سے ٹیکاٹور سے تین کلومیٹر پہلے ہی بیاریکیٹ لگادئے گئے۔ آخری رسومات میں شرکت کیلئے فارم ہاؤزمیں پلاسٹک ٹنٹ اور 200کرسیوں کا انتظام کیاگیا تھا۔ برسلز سے وزیر اعلیٰ سدرامیا کے ہمراہ لوٹنے والے بائرتی سریش ان انتظامات میں مصروف نظر آئے۔ ساتھ ہی وہ سدرامیا کے افراد خانہ کو دلاسہ بھی دیتے رہے۔